وقت بدلے گا تو ہر گام نظر آئیں گے
آگے بڑھتے ہی نئے نام نظر آئیں گے
آج بیکار سمجھتے ہیں بڑے لوگ مجھے
کل کلاں سب کو مرے کام نظر آئیں گے
جو سمجھتے ہیں مرا ان سے مخاطب ہونا
ان کو یہ شعر بھی الزام نظر آئیں گے
اب زمانے کو ضرورت ہے سو بھاؤ کر لیں
اب زمانے کو مرے دام نظر آئیں گے
جو دماغوں کے چراغوں کو رگڑتے ہی نہیں
ان کو کیسے ترے الہام نظر آئیں گے
میں جو جیتا تو خوشی سب کو برابر دوں گا
ہارنے والے بھی نہ ناکام نظر آئیں گے
ہم نے سورج سے بخاوت نہیں کرنی حیدر
ہم ستارے ہیں تہہِ شام نظر آئیں گے
حمادحیدرنقوی
Follow Hammad Hadier Naqvi to stay updated on their latest posts!
0 comments
Be the first to comment!
This post is waiting for your feedback.
Share your thoughts and join the conversation.