manoo2022/09/01 04:15
Follow

جنون سیزن ون( ایک جن ذادی کے عشق کی داستان جو عشقِ مصطفیٰﷺ پر اپنا جنون وار گئی)

پہیلی قسط

مانو راجپوت

صبح صادق کا وقت تھا۔ جب مولوی صاحب نے اپنی پانچ سالہ بیٹی نُور السحر کو آواز دی۔ نُور السحر صادق کا وقت ہو گیا ہے۔ اِس وقت سوتے نہیں۔ اِس وقت ربّ کی تسبیح کا آغاز کرتے ہیں۔ سب جن و اِنس۔ اور خود وہ اذان دینے ممبر پر چڑھ گئے۔۔ پورے گاؤں میں روز کی طرح مولوی نور احمد کی پُرنور اور میٹھی اذان کی آواز گونجی۔۔ ایک۔۔ایک کر کے۔۔ سب گھر روشن ہونا شروع ہوگئے۔ سب کا کہنا تھا۔ کہ پانچ وقت اتنی خوبصورت اذان کی صدا اُنہیں مسجد کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ کوئی۔۔ چاہ۔۔ کر بھی منہ نہیں موڑ سکتا۔۔ کوئی۔۔ کافر بھی ہو۔تو مسلمان ہو جائے۔۔ اس خوبصورت آواز کا دیوانہ ہو جائے۔۔ اور۔۔ تو۔۔اور۔۔مسجد کے عین سامنے جو درگاہ تھی۔۔ وہاں کے ملنگ بھی مست ہو جاتے تھے۔ اِس خوبصورت آواز کے سحر سے۔۔

اذان کی آواز سن کر سب مرد مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔ اور عورتیں بچوں کے ساتھ گھر میں نماز کا اہتمام کرنے لگیں۔ تاکہ جماعت ختم ہوتے ہی مولوی نور احمد کی پُر نور اور خوبصورت آواز میں تلاوت سُن سکیں۔ پہلے تو مولوی صاحب جماعت کے بعد مسجد میں ہی تلاوت کرتے تھے۔ پھر پورے گاؤں کے کہنے پر اسپیکر میں تلاوت کرنے لگے۔ جسے پورا گاؤں بہت اہتمام اور دھیان سے سُنتا۔ اپنے تمام کام چھوڑ کر۔ اور سُنتا بھی کیوں نہ؟! اتنی خوبصورت آواز کو..۔ جس میں حبِ رسولﷺ اور ربّ کی عقیدت و محبت احترام اور عشقِ مصطفیٰﷺ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

مولوی نور احمد ایک عرصہ سے گاؤں کی مسجد کی امامت کر رہے تھے۔ سب نے اُنھیں ایسے ہی مسجد کی خدمات کرتے دیکھا تھا۔ درگاہ کے سامنے موجود یہ مسجد بلکل کھنڈر ہو چکی تھی۔ مولوی نور احمد نے اس مسجد کو دوبارہ آباد کیا۔ مولوی صاحب مسجد کے تمام اخراجات خود ہی اٹھاتے تھے۔ یہ اِن کا اللّٰہ اور اِس کے محبوب سے عشق ہی تو تھا۔

مولوی صاحب اور اُن کی پانچ سالہ بیٹی۔۔نُور السحر۔۔ مسجد میں ہی رہتے تھے۔ نُور السحر ہی ان کی کُل کائنات تھی۔ اِن کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا۔ کہ انہوں نے شروع سے صرف مولوی صاحب اور اُن کی بیٹی کو ہی دیکھا ہے۔ اُس کی والدہ۔۔ کو کِسی نے کبھی نا۔۔ دیکھا نا۔۔ سنا صرف مولوی صاحب اور اُن کی بیٹی کو ہی دیکھا ہمیشہ۔۔

مولوی صاحب نا صرف مسجد کی امامت کرتے۔۔ بلکہ گاؤں کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ اور حفظ بھی کروایا کرتے تھے۔

مولوی صاحب کے پاس صرف اُن کے گاؤں کے بچے ہی علم حاصل کرنے نہیں آتےتھے۔ بلکہ آس پاس کے گاؤں کے سبھی بچے بھی مولوی صاحب کے پاس آیا کرتے تھے۔ قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے۔۔نور السحر بھی باقی بچّوں کے ساتھ قرآن پڑھا کرتی۔ اور حفظ بھی کرتی۔ نُور السحر کو بھی مولوی صاحب کی طرح تلاوت قرآن سے اور محمّد مصطفٰیﷺ سے انتہاء کا عشق تھا۔ نُور السحر اپنے نام ہی کی طرح تھی بےحد حسین۔۔ خوبصورت۔۔ پُرکشش۔۔ اور اُس سے بھی زیادہ۔۔ اُس کی آنکھیں۔۔ جو بے انتہاء حسین تھیں۔۔ اور اُس کی اسی خوبصورتی کی بنا پر سب اُسے زُلیخا پکارنے لگے۔ مگر اُسے زُلیخا سننا اتنا پسند نہ تھا۔ جتنا نُور السحر۔۔ کیونکہ۔۔ یہ نام اُس کے بابا نے اُسے دیا تھا۔

نُور السحر روز صبح ہی سے اپنے والد کے ساتھ بیٹھ جاتی۔ جیسے جيسے مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو قرآن پڑھایا کرتے۔ وہ بھی مگن اپنی دھن میں پڑھتی رہتی۔ ہر کسی سے بےنیاز۔ گاؤں کی عورتیں کب۔۔ آتیں کب۔۔ جاتیں۔ اُس کی خوبصورتی۔۔ اُس کی لگن محبت کو سرہاتیں۔ مگر اُسے دُنیا کی کوئی خبر نہ ہوتی۔ اپنے رب کے اور اُس کے محبوب کے عشق کے علاوہ۔

مگر۔۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔۔ شائد۔۔ وقت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

شائد۔۔ یہ سب ایسے ہی رہتا۔ اگر۔ نور محل سے بہو بیگم اپنے پانچ سالہ بیٹے یوسف اور اپنی نند کی بیٹی آسیہ کو مولوی صاحب کی شاگردی میں دینے نا آتیں۔ صوفی صاحب کی وصیت کے مطابق۔ یوسف اور آسیہ کے آنے سے سب بدل گیا۔۔ اب زُلیخا کو یوسف کے آنے کا۔ اُس کے ساتھ پڑھنے۔ اُس کے ساتھ کھیلنے۔ کا انتظار رہتا۔۔ کیونکہ۔ اس سے پہلے زُلیخا کی کسی سے نا۔۔اتنی۔۔ دوستی ہوئی تھی۔۔ نا۔۔ وہ کسی سے اتنا کھیلتی۔ بات کرتی تھی۔ یوسف کے گھر والے بھی مطمئن اور خوش تھے۔ کہ اُن کے بیٹے کو کوئی دوست مل گیا۔ اور اُس کا مدرسہ میں دل بھی لگ گیا ہے۔ ورنہ وہ سب بہت پریشان تھے۔

-------------+++++

Follow

Support this user by bitcoin tipping - How to tip bitcoin?

Send bitcoin to this address

Comment (0)