manoo2022/08/31 07:25
Follow

a story based on horror .so much interesting.

قسط نمبر 1

ناول #THE_RAPE

رائٹر : لقمان راجپوت

تین ماہ پہلے۔۔۔۔

سرمئی حجاب اور اس پر سفید رنگ کی کیپ، نقاب کی گرفت اتنی مظبوط کے چہرے پر نشانات بن جاتے، چال میں اتنی پاکیزگی کہ ہر قدم پر بسمہ اللہ کا ورد، ہاتھوں کو کالے رنگ کے دستانوں سے لپیٹ لیا، کالے رنگ کے برقعہ میں خود کو پوری طرح محفوظ کر کے وہ یونیورسٹی کے لان سے اپنی کلاس تک کا سفر کر رہی تھی، آنکھوں کی پاکیزگی اس قدر کے کبھی کسی غیر محرم کی طرف گئی ہی نہیں، وہ پوری یونیورسٹی میں اسلام کی شہزادی تھی، جہاں سے گزرتی سامنے والے کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیتی اس کی وضع قطع اس قدر پر اثر تھی کہ بڑے بڑے شیطان اس کے آگے زیر تھے،۔۔۔

___________________

عابد یار آج کا دن کتنا بورڈ اور بکواس ہے کچھ ہے ہی نہیں کھیلنے کو، اور لیکچر لینے کو تو ہمارا دل ویسے ہی نہیں کرتا چلو آج کلاس میں پروفیسر کی بینڈ بجانے چلتے ہیں، حامد نے تمام دوستوں کو تجویز دی اور سب دوست قہقہے لگاتے کلاس کی طرف چل دیے۔۔۔

راستے میں ہر آتی جاتی لڑکی پر کمینٹس پاس کرتے اور کھلکھلا کے ہنستے،

او واہ کیا پیس ہے؟

اس کو چھوڑ یار اس کو دیکھ، ایٹم ہے پوری،

ارے گولی مارو اس کو وہ چیک کرو، انت ہے بھائی،

ہائے اس کے بال تو دیکھ، ،،

ہاہاہاہا تیری نظر بس بالوں پر ہے نیچے بھی آ جا۔۔۔ارمان نے حامد کا منہ پکڑ کا نیچے کی طرف جھکا دیا،

کمال ہے باس ، کمال ہے،،، زوردار قہقہہ ۔۔۔۔۔

ابے سالوں یہ سب چھوڑو سامنے دیکھو ڈبہ پیک آرہا ہے،

فاطمہ نظریں جھکائے سامنے سے گھڑی پر وقت کی سوئی کو دیکھ کر تیزی سے کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی،

ارے رکو تو۔۔۔! ہمیں بھی کچھ وقت دیا کرو، عابد جھٹ سے اس کے سامنے آگیا،

ویسے میں حیران ہوں یار یہ اتنا پیک ہوکر کیسے رہ لیتی ہے، پتہ نہیں کیا چھپا رہی ہم سے، حامد نے ایک بار پھر عابد کی شیخی بڑھائی،

مس آپ سے بات کر رہے ہیں، پیچھلے 2 سال سے تمہارے پیچھے کتوں کی طرح بھاگ رہے ہیں ، مگر تمہاری ذات پر اثر ہی نہیں ہوتا ، کس مٹی کی بنی ہو۔۔۔؟ عابد نے تمام دوستوں کی رائے لیتے ہوئے کہا۔۔۔

ارے فار گاڈ سیک کچھ تو کہو، میں تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں، آج تو تمہارا چہرہ بھی دیکھوں گا۔۔۔۔عابد یہ کہتے کہتے فاطمہ کے حجاب کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھا رہا تھا، ۔۔۔

اس سے پہلے کہ عابد کی پہنچ حجاب تک ہوتی ، فاطمہ پیچھے ہو گی،

ارے بھاگ کیوں رہی ہو، ایکچلی میں روزانہ کے یہ بوسیدہ چہرے دیکھ کر تنگ آگیا ہوں، اب کچھ نیا دیکھنا چاہتا ہوں، ۔۔۔۔عابد اس کے قریب ہوتا جا رہا تھا،

___________________

اوئے وہ تمہاری پاکیزہ دوست کدھر ہے؟ جاسمین جو کہ ایک کرسیچن تھی اس نے زمر سے سوال کیا، زمر فاطمہ کی کلاس میٹ ہونے کہ ساتھ یونیورسٹی میں واحد دوست تھی ، اور فاطمہ کا لائف سٹائل دیکھ کر زمر نے خود کو اس کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔۔۔

آ رہی ہوگی اور تم نے درست کہا وہ واقعی پاکیزہ ہے، اسلام کی شہزادی ہے، ایک ایسی لڑکی جسے دیکھ کر روح کو سکون ملتا ہے، عورت کیا ہے اس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے، اس کا مقام کیا ہے ؟ اسکے حلیہ سے پتہ چلتا ہے، کہ کیسے وہ اپنے جسم پر ایک گندی نظر بھی برداشت نہیں کر سکتی، لیکن خیر تم نہیں سمجھو گی۔۔۔زمر جواب دے کر فاطمہ کی تلاش میں کلاس سے باہر نکل آئی۔۔!

_______________________

بھائی آج اس کا نقاب اگر اتار لیا تو میری طرف سے پوری کلاس کو پارٹی، یہ سن کر عابد اور تیزی سے اس کی طرف بڑھا، ۔۔۔۔۔

فاطمہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ زمر نے فاطمہ کو دیکھتے ہی زور سے کہا۔۔۔۔

فاطمہ رو رہی تھی اور نظریں جھکائے چپ تھی،

چلو کلاس میں چلو،،،، زمر نے فاطمہ کا ہاتھ تھاما اور چلنے لگی۔۔۔

ارے رکو۔۔۔! دوست کی چیلی ارمان نے زمر کا ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا۔۔۔۔

ارمان ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔زمر نے تنبیہ لہجے میں کہا۔۔۔

ارے یہ چھوڑنے کے لیے نہیں

پکڑا۔۔۔ارمان نے ڈھٹھائی سے دانت نکالتے ہوئے کہا،

اوکے پھر ، یہ لو۔۔۔۔زمر نے ارمان کے منہ پر زوردار تھپڑ مارا، اب اسکو یاد رکھنا دوبارہ ہاتھ پکڑا تو بازو کٹوا کر ہاتھ میں دے دوں گی،

________________________

حسن تم ادھر بیٹھے ہو ادھر عابد اور اس کے دوست فاطمہ کو تنگ کر رہے ہیں،

حسن لاء کا سٹودنٹ اور فاطمہ کا گمنام محبت گیر تھا ، جس کا اس کے ایک دوست کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا، وہ روزانہ اسے دیکھتا، اور بس دیکھتا ہی رہتا، 2 سال سے وہ اس سے دلی محبت رکھتا تھا، لیکن کبھی اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی ، کہ کبھی فاطمہ کا راستہ روکے، اور اسے بتائے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے،

جلدی چلو۔۔۔۔حسن۔۔۔۔

_______________________

یا اللہ خیر میرا دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے، اللہ خیر کرے فاطمہ ٹھیک ہو، مجھے ایسا لگ رہا کہ فاطمہ کسی مشکل میں ہے، فاطمہ کی ماں نے فاطمہ کے ابو سے کہا

تمہیں تو وہم ہی ہوتا رہتا ہے، بیگم ، فاطمہ کے ابو نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

جی نہیں ، میرا دل کہتا ہے فاطمہ کسی مشکل میں ہے، یااللہ اس کی حفاظت فرما۔۔۔۔! بے شک تو ہی حفاظت فرمانے والا ہے، یااللہ پاک اسے اپنی پناہ میں لے لے۔۔! امین!

یہ آج بیٹی کے لئے دعا ہی کرتی رہو گی یا ہمیں چائے بھی دو گی۔۔۔ فاطمہ کے ابو نے اپنی بیوی سے کہا۔

_________________

ارمان مکمل طور پر آپے سے باہر ہو گیا، اور زمر کو واپس تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔لیکن عابد نے اس کا ہاتھ روک لیا۔۔۔

ارمان تجھے پتہ نہیں کون ہے یہ۔۔! میرے چچا کی بیٹی۔۔

تیرے چچا کی بیٹی ہے تو کیا مطلب ہماری انسلٹ کرے گی۔۔۔ارمان نے عابد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔۔۔

تونے اس کا ہاتھ کیوں پکڑا۔۔۔! اور چِل مار وہ سوری کہے گی تمہیں۔۔۔

چلو زمر سوری کہو ارمان سے۔۔۔ عابد نے زمر سے کہا۔۔۔

سوری بولتی ہے میری جوتی، بھاڑ میں جاؤ تم اور بھاڑمیں جائیں تمہارے دوست اور آئندہ اگر تم نے ہم دونوں میں سے کسی کا راستہ روکا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔

_____________________

ارے یار یہاں تو سین بہت گرم ہے۔۔۔چل حسن چلیں۔۔۔!

رک جا یار۔۔۔

کیا ہو رہا ہے یہاں، حسن نے گرج دار لہجے میں کہا۔۔۔حسن سنئیر ہونے کے ساتھ یونیورسٹی کا ماڈل بوائے بھی تھا۔۔۔۔

چلیں سب اپنی اپنی کلاسز میں کون سا تماشہ لگا ہے یہاں ، عابد نے جوش سے کہا۔۔۔

اور ہاں تم چکنے آئندہ میرے سامنے اونچی آواز میں مت بولنا ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا بول ناں، بکواس کر آگے۔ ۔حسن نے اسی لہجے میں جواب دیا۔۔۔

ابے چل موڈ نہیں بات کرنے کا تیرے ساتھ۔۔۔۔عابد نے حسن کی ٹھوڑی سے پکڑ کر جھنجوڑا اسے۔۔۔۔

____________________

فاطمہ کیا ہے یہ۔۔؟ کیوں رو رہی ہو؟ بس کر دو۔؟میں زمر ہوں یار ۔۔کیا ہوا۔۔۔؟ دیکھو یار ان کو جواب دینا سیکھو کب سیکھو گی تم یہ۔۔۔یہ تو سر پر چڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔۔

فاطمہ کیا سوچ رہی ہو۔۔۔؟

میں یہ سوچ رہی ہوں کہ مجھ سے کس کے اعمال کا بدلہ لیا گیا، میرے بھائی کا یا میرے باپ کے اعمال کا۔۔۔

اس بات کا کیا مطلب۔۔۔۔؟ اس میں تمہارے بابا اور تمہارے بھائی کہاں سے آگئے ۔۔!

تم نہیں سمجھو گی۔۔!فاطمہ نے غمگین آواز میں جواب دیا۔۔

________________________

To be continued.....!

Follow

Support this user by bitcoin tipping - How to tip bitcoin?

Send bitcoin to this address

Comment (0)