Humi2022/03/27 03:35
Follow

Love story

Hum Safar

Date: 26 Feb 2022

Subject: ہم سفر

میرا ہم سفر ، ہم راز ہے تو

میری جستجو ، آرزو ہر بار ہے تو

یہ کہانی ہے ایک ایسے انسان کی جس کا ہر دن مشکلات سے بھرپور تھا۔ جانے کیوں زندگی اس سے اکتا گئی تھی يا وه زندگی سے پریشان تھا ۔

نام تھا اس کا مبشر -

بچپن گزرا انتہائی مشکل حالات میں ۔ اپنے دل میں خواہشات کے کئی چراغ جلائے جب وہ بڑا ہوا اور میٹرک کلاس میں پہنچا۔ تو اس نادان عمر میں جناب پیار کر بیٹھے . اور اس دل چرا لینے والی کا نام حلیمہ تھا ۔ وہ بھی ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی .

مبشر کا ایک دوست احمد تھا . جو اس کے ساتھ بچپن سے ہی تھا مگر مبشر کی بہن منتہی کو اس کا دوست ایک آنکھ نہ بھاتا وہ اسے لوفر کہتی اور اپنے بھائی کو بھی اس سے دور رہنے کی ہدایت کرتی مگر مبشر اپنی طرز کا انسان تھا اسے اپنی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت پسند نہیں تھی .

ایک دن مبشر اور احمد مبشر کے گھر کی چھت پے باتیں کررہے تھے۔ مبشر نے کہا کہ وہ بہت بور ہو رہا ہے احمد نے قہقہا لگایا اور اپنے دوست سے بولا اس عمر میں بوریت کیا چیز ہے میرے بھائی چلو تمہاری بوریت کرتے ہیں دور احمد نے مبشر کا فون لیا یہ تم کیا کررہے ہو ؟ احمد ! مبشر بولا . یار صبر تو کرو . ہاں یہ صحیح guess ہوگا احمد بولا .

کیا کیا صحیح ہوگا تم کرکیا رہے ہو کچھ مجھے بھی تو بتاؤ مبشر نے پوچھا

یہ دیکھو یہ نمبر ہے اس پر Hi کا میسج کرو احمد نے مبشر کو فون تھمایا .

یہ کس کا نمبر ہے یار مبشر نے سوال کیا ـ ارے یار مجھے کیا پتا کس کا ہے تم بس وہ کرو جو میں کہتا ہوں بہت مزہ آئے گا یقین کرو احمد نے مبشر کو میسج کرنے پر اکسایا . تو مبشر نے میسج کردیا۔ تو reply آیا جی کون ؟ احمد نے میسج دیکھا اور بولا لواب آئے گا مزه لگتا ہے کسی لڑکی کا نمبر ہے پٹا لے یار انجوائے کر .

شرم کرو یہ حرکت بالکل ٹھیک نہیں . لڑکیوں کو تنگ کر کے پٹانے سے کیا ملتا ہے ہمیں لڑکیوں کی عزت کرنی چاہے مبشر احمد کو سمجھاتا ہے .

چل چل یار رہنے دے تو اب لیکچر نہ دے احمد بولا پر تو reply تو کرنہ بات کرنا میں کرلوں گا .

لامجھے دے میں خود کرلیتا ہوں احمد مبشر سے فون چھین کر بھاگتاہے . اوئے میرا فون واپس کر مبشر احمد کے پیچھے بھاگتا ہے .

احمد نے تب تک میسج کردیا Hi میں آپ کا چاہنے والا . plzz میسج کا reply ضرور کرنا .

فون واپس مبشر كودیتے ہوئے احمد بولا یہ لے . اور قہقہا لگاتے ہوئے وہاں سے چلا جاتا ہے

مبشر چھت پر کھڑا ستاروں سے باتیں کررہا تھا کہ اچانک فون پر میسج آیا . تمہیں شرم نہیں آتی لفنگے میرے سامنے آؤ میں تمہاری چاہت نکالوں .

مبشر میسج دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ پتا نہیں احمد نے کیا میسج کیا . اب میں کیا کروں .

اتنے میں اس نمبر سے کال آگئی مبشرنے فون اٹھایا اور ڈرتے ہوئے بولا : Hello آگے سے آواز آئی لوچے لفنگے تمہیں شرم نہیں آتی کسی کو بھی کچھ بھی میسج کرتے ہو . حلیمہ بولی

مبشر مگر میں نے نہیں کیا .

اچھا تو کیا تمہارے فون میں کوئی Automatic میسج کرنے کا system ہے جو سب کچھ خود ہوگیا۔ حلیمہ غصے سے اس پر چلا رہی تھی اور اس کی آواز سن کر مبشر کو دل ہی دل میں اچھا لگ رہا تھا۔ حلیمہ بولتی گئی اور مبشر سنتا رہا

اب بولتے کیوں نہیں بدمعاش بنتے ہو حلیمہ بولے جارہی ہے

مبشر جی میں معافی چاہتا ہوں آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا ..

ٹھیک ہے ٹھیک ہے حلیمہ نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی

اف خدایا اس لڑکی نے تو جان ہی نکال لینی تھی . ویسے آواز اچھی تھی مبشر مسکرایا۔

چل مبشر بیٹا سوجا نہیں تو صبح گھر والوں سے تو عزت ہونی ہے سکول سے بھی ہوگی . وہ سونے چلا گیا .

اگلی صبح الارم بج رہا ہے مگر مبشر سورہا ہے اتنے میں منتہی بھائی کو جگانے آئی اٹھو بھی خود تو روز لیٹ ہوتے ہو مجھے بھی کروگے . کس نے کہا تھا رات دیر تک اس احمد لفنگے سے باتیں کرو ۔ امی اس تو اٹھائیں نہیں تو میں اس پر پانی گرا دوں گی۔

مبشر لاچاری میں اٹھتا ہے ناشتہ لگاؤ میں آتا ہوں . مہربانی ہوگی جلدی آؤ منتہی نے کہا

دونوں نے ناشتہ کیا اور سکول کے لیے نکل گئے سکول پہنچتے ہی مبشر تو احمد ملا . مبشر اس کی طرف بھاگتے ہوئے سالے تورک اور احمد کو پکڑ لیا تم نے کل رات کیا میسج کیا تھا اس لڑکی تو میرے فون سے مبشر نے پوچھا

ہاہاہا احمد مسکرایا میں نے بولا تھا I love you meri jan

مبشر تیری تو تمہیں پتہ ہے رات کو اس نے مجھے کال کی تھی

کیا کیا سچ میں ایک رات میں لڑکی نے تمہیں کال کردی احمد بولا

ابے سن تولے پہلے مبشر بولا کال کرکے اس نے مجھے اتنی باتیں سنائی جس کا کوئی حساب نہیں اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا.

احمد ہنستے ہوئے تو کیا ہوا لڑکی کا غصہ بھی وقتی ہوتا ہے ۔ چل چھوڑ مجھے نہیں ان سب چکروں میں پڑھنا ۔ چلو کلاس میں دیر ہو رہی ہے۔

کچھ دن گزرنے کے بعد مبشر کو اچانک میسج آیا . سنیں ایک چھوٹی سی مدد چاہیے آپ سے . اگر آپ برا نہ منائیں تو .

مبشر میسج دیکھ کر پریشان ہوگیا یہ کون ہے ؟ مبشر نے جواب دیا جی کون اور کیسی مدد چاہیے آپ کو . reply آیا . اچھا اب اتنی جلدی بھول بھی گئے کہ میں کون ہوں . میں وہی ہوں جس کو اس دن آپ نے میسج کیا تھا۔

اوه اچھا تو آپ ہیں جی کہیں کیا مدر کرسکتا ہوں میں آپ کی . مبشر نے جواب دیا۔

جی وہ مجھے بیلنس کی ضرورت ہے ابھی میری امی کی طبیعت خراب ہے بھائی کو کال کرنی ہے مگر بیلینس نہیں اسلئے آپ کا نمبر سامنے آیا تو میں نے سوچا آپ کو میسج کردوں امید ہے آپ کو برا نہیں لگا ہوگا اگر نہیں ہوسکتا تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں ابھی بھیجتا ہوں . آپ فکر مت کریں آپ کی امی ٹھیک ہو جائیں گی۔ مبشر نے جواب دیا .

آپ کا بہت شکریہ میں آپ کا یہ احسان نہیں بھولوں گی . reply آیا .

مبشر احسان کیسا آپ کی مدد کر مجھے خوشی ہوگی .

مبشر بیلنس بھیج دیتا ہے .

ویسے آپ کا نام کیا ہے؟ مبشر پوچھتا ہے . میرا نام حلیمہ ہے جواب آیا۔

پھر بات کرتے کرتے دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے مبشر دن رات بس اب حلیمہ سے باتیں کرتا اور پڑھائی سے تو وہ پہلے ہی جان چھڑاتا . ایک دن مبشر نے حلیمہ سے اپنے پیار کا اظہار کیا اور حلیمہ نے بھی اس کا proposal قبول کرلیا۔ ایسے ہی دونوں فون پر بات کرتے اور ایک سال گزر گیا اب گھر کے حالات تنگ ہونے کی وجہ سے مبشر نے کام کی تلاش شروع کی بالآخر اسے ایک مکینک کے پاس نوکری ملی۔ کچھ دن بعد وہ اور اس کا مکینک استاد بیٹھے بات کر رہے تھے کہ مبشر کے فون میں حلیمہ کا میسج آیا مبشر نے چونکہ ابھی حلیمہ کے نام سے اس کا نمبر سیو نہیں کیا تھا صرف نمبرہی سکرین پر آرہا تھا . استاد نے مبشر سے پوچھا بھائی یہ کون ہے؟ مبشر نے بتایا کہ یہ میری گرل فرینڈ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ استاد مبشر کو بہت غصے سے دیکھ رہا تھا مبشر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔ وہ خاموش رہا۔

ساری رات مبشر حلیمہ کوکال میسج کرتا رہا مگر اس کا فون بند جارہا تھا۔ مبشر بہت پریشان ہوگیا . بالآخر صبح ہوئی۔

اگلے دن جب مبشر کام کے لیے گراج آیا تو اچانک

گراج کا دروازہ بند ہوا اور چند غنڈے لوگ ہاتھ میں ہتھیار لیے اس کو گھیرے کھڑے تھے . مبشر کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو یہ آخراس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے اس کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی . ان غنڈوں نے مبشر کو بیٹھنے کا کہا وہ بیٹھ گیا . پھر مبشر کا استاد نمودار ہوا . اس نے آکر مبشر کا کالر پکڑ لیا۔ اور بولا سالے حرامی تیری ہمت کیسے ہوئی . استاد ہوا کیا ہے ؟ مبشر بولا . میرے فون سے نمبر نکال کر میری بھانجی کو پاگل بناتا ہے تو ابھی مجھے جانتا نہیں . بھانجی کون میں آپ کی کسی بھانجی کو نہیں جانتا یہ آپ کیا بول رہے ہیں۔ مبشر بولا . اچھا تو نہیں جانتا سچ سچ بتا تو نے میرے فون سے وه نمبر نکالا تھا جس نمبر سے کل میسج آیا تھا۔ استاد غصے سے مبشر پر چلایا

مبشر کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی. استاد نے مبشر کو دھمکی دی کہ دوبارہ اس نمبر پر میسج یا کال کی تو جان سے مار دے گا وہ لڑکی حلیمہ استادکی بھانجی نکلی اور استاد نے مبشر کو بتایا کہ اس کی منگنی اس کے کزن کے ساتھ طے ہے اور جلد ہی ان کی شادی ہے . اور مبشر ان کی زندگی میں کوئی مشکل کھڑی نہ کرے . یہ بات سن کر جیسے مبشر کی جان نکل گئی ہو استاد نے اسے چھوڑ دیا اور وہ گھر آگیا . اسے اس حالت میں دیکھ کر سب پریشان ہو گئے۔ مبشر کے ذہن میں اب بھی استاد کی باتیں گونج رہی ہیں۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حلیمہ نے اس سے یہ بات چھپائی .

مبشر نے خود کو کمرے میں بند کرلیا اور اس نے پھر حلیمہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔ پھر اسے یاد آیا کہ حلیمہ نے ایک دن اپنی دوست کے نمبر سے رابطہ کیا تھا . مبشر نے وہ نمبر نکالا اور اس نمبر پر میسج کیا . اتفاق سے اس وقت حلیمہ اسی دوست کے گھر تھی۔ مبشر نے اس دوست سے کہاکہ حلیمہ سے بات کروائے . مبشر نے کال کی حلیمہ نے اٹھائی . مبشر نے حلیمہ سے روتے ہوئے پوچھا کیا یہ سچ ہے جواس کے ماموں نے کہا . حلیمہ نے جواب میں کہا دیکھو مجھے تمہیں پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا مگر مجھے لگا نہیں تھا تمہیں ایسے پتا چلے گا میرے گھروالے ہمارے رشتے کے لیے کبھی نہیں مانیں گے اس لیے میں نے اپنے کزن سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور تم بھی آگے بڑھو مجھے بھول جاؤ . اور دوبارہ مجھ سے رابطہ نہ کرنا please ورنہ میں پریشانی میں پڑ جاؤں گی . اس نے فون بند کردیا۔ مبشر کے لیے یہ سب ناقابل برداشت تھا جس لڑکی کو وه اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا اچانک اس نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔

رات کا پچھلا پہر تھا اور مبشر کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی اسے بہت تیز بخار ہو رہا تھا اس کی امی مسلسل اس کے سرپر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کررہی تھی انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اچانک ان کے بیٹے کو ہو کیا گیا۔

ایک ہفتہ گزر گیا مگر مبشر کی طبیعت میں سدھار نہ آیا۔ امی کے بہت بار پوچھنے کے بعد بالآخر آج مبشر نے امی کو سب بتا دیا . انھوں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا اور اسے سمجھایا ایسے لوگوں کے لیے تم اپنی زندگی خراب مت کرو . تمہاری زندگی میں اور بھی لوگ ہیں تم ان کو سزا مت دو . تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ اور تمہیں اس سے بہتر لڑکی ملے گی۔ امی کی باتوں سے مبشر کو تھوڑا حوصلہ ملا۔

اب مبشر کی زندگی میں ایک نئے کرداد کی انٹری ہوتی ہے ۔ اس کی بہن کی ایک دوست ہے جس کا نام ہے تمنا ۔

پہلی ملاقات ہوئی کالج سے اپنی بہن منتہی کو واپس لاتے ہوئے . اور پہلی نظر میں ہی مبشر کو وہ پسند آنے لگی . پر مبشر اب کسی سے بھی پیار نہ کرنے کی قسم کھا چکا تھا۔

پر سچی محبت دوسری بار ہو یا پہلی بار تمام محبتوں کو بھلا دیتی ہے . منتہی کی دوست اس کے گھر آئی ۔ مبشر آہستہ آہستہ اسے جاننے لگا . ایک دن اس نے اپنی بہن سے اس بات کا اظہار کیا کہ شاید اسے تمنا میں دلچسپی ہے بہن نے اظہار کرنے کا مشورہ دیا۔ مبشر نے فون اٹھایا اور ڈرتے ہوئے میسج ٹائپ کیا۔

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے .

تمنا ایک فراخ دل اور سب کا خیال رکھنے والی لڑکی ہے. مبشر نے اسے اپنی پرانی محبت کی داستان سنائی۔ تمنا نے اسے حوصلہ دیا اور سمجھایا ۔ اس کے سمجھانے سے جیسے مبشر کو سب سمجھ آگیا۔ آہستہ آہستہ دونوں میں گپ شپ بڑھتی گئی۔ شاید یہی وہ پھل تھا جو مبشر کو اس کے صبر کے لیے ملنا تھا۔ مبشر نے تمنا سے اپنے پیار کا اظہار کیا تمنا نے اسے قبول کیا اور کہا کے اپنے گھروالوں کو بتاؤ ۔ مبشر نے اپنی امی سے اس بات کا ذکر کیا انھوں نے مبشر اور تمنا کا ساتھ دینے کا وعده کیا اور پہلے مبشر کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا مشورہ دیا۔ کام کے سلسلے میں مبشر بیرون ملک گیا ۔

وہاں مشکلوں سے لڑتے لڑتے بالآخر مبشر کو ایک اچھی جاب مل گئی۔ مگر ان مشکل حالات میں بھی تمنا پردم مبشر کے ساتھ چلی اور ہر بار اسے ایک نئی امید دلاتی ۔ دونوں کی محنت رنگ لائی۔ مبشر وطن واپس آیا . مبشر کی امی نے اپنا وعده پورا کیا اور تمنا کے لیے اس کے گھر والوں سے رشتہ مانگا . اور ان کی خوش قسمتی تمنا کے گھر والے مان گئے۔ دونوں کی محبت کو منزل ملی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ زندگی میں ہر قسم کے حالات آئے مگر ان کی محبت میں بدلاؤ نہ آیا۔ اور دونوں ایک اچھی زندگی گزارنے لگ گئے۔

محبت پیسہ ، ذات ، جائیداد نہیں دیکھتی ۔ بلکہ محبت ہی سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے جو انسان کو کبھی گرنے نہیں دیتا۔

اپنے چاہنے والوں کو وقت دیجئیے اور ان کا خیال رکھیے . زندگی ہر کسی کو چاہنے والا نہیں دیتی۔😍

writer:

Huma Kainat

Follow

Support this user by tipping bitcoin - How to tip bitcoin?

Send bitcoin to this address

Comment (0)

Advertisements