Sanaullah khan2021/12/16 02:50
Follow

Poetry Nazam

Kainati

تم ساون کی رُت ہو یا نیلا آسمان ہو کائناتی

تم بہار میں کھلتے پھولوں کا گمان ہو کائناتی

لمحہ تیری مسکراہٹ کا آنکھوں میں رک گیا ہے

حُسن تیرا الفاظ میں کیسے بیان ہو کائناتی

تمھیں معلوم ہے میں کوئل کی آواز سے مانوس نہیں

تم بولو کہ کوئل کو آواز کی پہچان ہو کائناتی

یہ کیا بات ترے ہجر میں اشکوں کو بہاۓ جاؤں میں

تم دور تو ہو پر میرے چین کا سامان ہو کائناتی

گر میرے بس میں ہو میں غمی کو قریب نہ آنے دیتا

دل گوارا نہ کرے اک پل جو پریشان ہو کائناتی

کاش میری عمر تجھ کو لگ جاۓ دنیا میں رہتے

کاش تجھ پر زندگی یہ مہربان ہو کائناتی

میرے دل کے چاروں کونے خالی ہیں تیرے لیے ہی

اور دعا ہے تجھ سوا یہ دل ویران ہو کائناتی

اس تبسم کی قسم جو آپکے چہرے کی زینت

پتلیِ چشم جیسے کالا آسمان ہو کائناتی

میں رہا خلوت کے اندھیرے کے راہی کا پڑاؤ

آپ تو جلوت کے جھمیلوں کی بھی جان ہو کائناتی

میں وہ نقش جو مٹ گیا ہوں ریت کے سینے پہ ہوا سے

تم طوفاں دہلا دینے والی چٹان ہو کائناتی

کھوج میں تیری نکل پڑتا ہوں صحرا میں کبھی بھی

کوئ سمت نہیں جہاں تیرا نشان ہو کائناتی

تو جو حکم صادر کرے تکمیل کو پہنچاۓ وہیں پر

ی جو بنے تیرا، منہ میں اس کے زبان ہو کائناتی

Follow

Support this user by tipping bitcoin - How to tip bitcoin?

Send bitcoin to this address

Comment (0)

Advertisements