تقدیر کے ہاتھوں کھلوناہے آدمی


フォロー

کہانی ایک لڑکے اور لڑکی کی جو محبت کرتے تھے بنا دیکھے پر قسمت میں لکھے تھے کہی امتحان ۔ کیا محبت کو ملے گا وصل یا ہوں گے تا عمر کے لئے جدا۔ For more follow me.

تقدیر کے ہاتھوں کھلوناہے آدمی

تقدیر اس لڑکے پر کبھی ٹھہری ہی نہیں تھی۔ تقدیر اس کا پہلا اور آخری استاد تھا۔ آج وہ وہاں کھڑا تھا جہاں اس کے خوابوں کو منزل ملنے والی تھی۔ آنکھوں میں امید اور اللّه پر بھروسہ وہ  آسمان کو چھوتی عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ سنجیدہ تو کبھی ہوا ہی نہیں اب  کیوں وہ بھی نہیں جانتا تھا۔۔وہ ایک۔ مدت سے ایسا ہو گیا تھا ۔ کسی نے  ہاتھ اس کے کند ھے پر رکھا ,محسوس کرتا وہ آنکھیں بند کر گیا۔وہ اپنی خیالی دنیا سے باہر آیا تھا۔

"کیا ہوا اسمار  ۔وہ دن آ گیا جو تمہارا خواب تھا۔ایک قدم دور اور حاصل۔ " فطین  ہی تو تھا جو ہمیشہ سے اس کے ساتھ تھا۔

"جب منزل نزدیک ہو نہ تو  اُس کے کھونے کا  امکان زیادہ ہو جاتا ہے ۔" اس نے سرد لہجے میں کہا اور  کچھ لمحے کو روکا ۔

"حاصل کے دامن میں  لا حاصل کی بد دعا ہوتی ہے۔ لگتا ہے اس چوکھٹ پر پاؤں رکھو گا تو یہ مجھے گرا دے گی۔" اسے ہر پل خوف رہتا تھا۔ وہ سامنے موجود فلک کو چھوتی بلڈنگ کو دیکھتے بولا۔

"وعدہ رہا میں تمہیں گرنے نہیں دوں گا۔" فطین   نے آنکھیں میں  چمک لا اسے اپنے ساتھ کا یقین دلوایا تھا۔لیکن ڈر اس کے دل کو اپنی مٹھی میں لئے بیٹھا تھا۔


فطین    نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا جیسے سبطین  کوئی وزیر اعظم ہو۔سبطین  اس   کی اس حرکت پر  ہنس دیا۔ دونوں ایک ساتھ آگے بڑھے تھے۔ سبطین  قدرے پریشان جب کہ فطین   کے چہرے کو خوشی نے گھیر رکھا تھا۔اسے یقین تھا اپنے دوست پر، وہ دوست تھا اسے اس سے زیادہ جانتا تھا۔پر وہ تقدیر کو نہیں جانتا تھا جسے سبطین ایک مدت سے ماتھے سے مٹھانے میں لگا تھا۔

"مسٹر  سبطین  ۔"

"جی"

"آپ کی ٹرن ہے آڈیشن کے لئے آ جائے۔" سبطین  نے ایک نظر فطین   کو دیکھا تھا جس نے تھم اپ کر اسے سر ہلا کر جانے کا کہا ۔ ذھن میں کشمکش کا طوفان اٹھ اٹھ کر دم توڑ رہا تھا۔ وہ آڈیشن روم میں آیا سامنے داخل ہوتے ہی اسے ایک تقریباً چالیس سال کا آدمی اور ایک درمیا نے قد کی عورت نظر آئی جنہوں نے اس کا  سر سے پاؤں تک معائنہ کیا۔

آڈیشن ہو چکا تھا اب اسے انٹرویو کے لئے بھلایا گیا۔اجازت لے  وہ روم میں داخل ہوا۔

” آپ سبطین   ہیں ؟ عورت نے سوال کیا۔

"جی " اس  نے فورن جواب دیا۔

"بیٹھ جائیں۔" سبطین  ان کی ہدایت پر سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔

" آپ کو ایکٹنگ کا شوق کیسے ہوا ؟” اب کی بار مرد نے سوال پوچھا۔

سبطین  نے اپنی مٹھی بنائی۔ "یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تب ایک شو میں رول کیا تھا بس تب سے چاہتا ہوں کہ ایکٹنگ کرو۔" سبطین  نے با اعتمادی سے جھوٹ سے مزین  جواب گھڑ دیا۔

" آپ کو کیا لگتا ہے ایسا کون سا رول ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔" عورت نے پوچھا اور ایک  بار پھر اسے مکمل طور پر دیکھا۔

" ہر رول مجھے لگتا ہے کہ میں کر سکتا ہوں۔"

"آپ نے یہاں لکھا ہے آپ نے بی اے کر رکھا ہے۔۔۔پوچھ سکتی ہوں ایکٹنگ کرنا ہی کیوں چونا؟۔اس نے سبطین پر نظریں جماۓ پوچھا۔ اس کے سوال اور پر جواب معنی خیز تھے۔

" مجھے ایکٹنگ پسند ہے تو وہی کرنا چاہیے جو دل کرے۔" کہتا سبطین نظریں جھکا گیا۔

"آپ دل کی سنتے ہو۔۔کیا آپ کو لگتا ہے دل سے کیا ہر فیصلہ ٹھیک ہوتا ہے۔" عورت ہلکا سا مسکرائی۔

"دل سے کیا فیصلہ بھلے آپ اس میں کامیاب ہو نہ ہو پر مطمئن رہتے ہو، پر دماغ آپ کو الجھا دیتا ہے بہتر اور بہترین کے درمیان پھر آپ کسی کے نہیں رہتے  نہ بہتر کے نہ بہترین کے۔" سبطین  نے تسلی بخش سا جواب دیا۔

" ڈرامے میں ہزاروں کہانیاں ہوتی ہیں ،کردار ہوتے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے اگر آپ ایک کردار بننا چاہو تو کیا بنو گے ؟” عورت نے اب اس کے ہاتھوں کو دیکھا جو ایک دوسرے میں الجھتے جا رہے تھے۔

" میں  ایسے لڑکے کا کردار نبھا سکتا ہوں جو سالوں سے ایک لڑکی کی تلاش میں خود کو غرق کر رہا ہے۔" اب اس نے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔

"آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے ؟” عورت نے پوچھا تو وہ ہلکا سے مسکرا دیا۔

" ہاں کی ہے جتنی شاید کر سکتا تھا۔" وہ آنکھیں چرا گیا۔

"اسی کی تلاش میں ہو ؟”

اب کی بار مرد نے پوچھا جو کب سے اسے گھور رہا تھا۔

" کھوئی ہوئی چیز کی تلاش کی جاتی ہے ،وہ تو کبھی ملی نہیں، ایک ادھورا سا  چہرہ جو دیکھا تھا کہی، جو چاہتی تھی مجھے ،میں کھو گیا ہوں بس چاہتا ہوں وہ ڈھونڈ لے مجھے۔" اس کی آنکھوں میں الگ ہی چمک آ گی تھی جیسے ابھی رو دے گا۔

"آخر اسی سے کیوں امید کر رہے ہو آپ ؟ سوچو اگر وہ آپ کا انتظار کر رہی ہو تو۔" عورت ایک دم بولی۔ سبطین نے اسے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ اس کی یہ بات اسے سوچ میں ڈال چکی تھی۔۔۔۔وہ خاموش رہا۔ عورت اپنے سوال کا جواب چاہتی تھی پر سبطین کے پاس صرف خاموشی ہی تھی۔

" آپ جا سکتے ہیں ، فیصلہ کر کے آپ کو کال کریں گے۔" آدمی نے کہا پر وہ عورت اب بھی اسے دیکھ رہی تھی جیسے اس کی کہانی جاننا چاہتی ہو۔۔۔کیا ہو سکتا ہے۔۔۔کیسے ملی ہو گی؟۔۔کون ہو گی؟۔۔اور کیوں کہہ رہا تھا وہ کبھی ملی نہیں۔۔۔وہ کیسے تلاش کرے گی ؟۔۔۔کہی سوال تھے جو وہ ذہن میں خودی سے کر رہی تھی۔


"کیا ہوا سبطین   ؟” فطین اس کے انتظار میں کبھی آگے تو کبھی پیچھے قدموں کو تیزی سے بڑھا رہا تھا۔ دل ہی دل میں کہی صورتیں پڑھ دعائیں مانگ رہا تھا۔۔۔۔پہلے دوست کی کامیابی کی دعائیں ۔

"پتہ نہیں۔" اس کا اس جواب پر  وہ ڈھیلا سا پڑھ گیا۔

"کوئی امید ؟"

"نہیں جانتا۔" سبطین کے اس انداز سے وہ واقف تھا۔۔وہ عورت اسے کمرے کے شفاف شیشے  سے  اب بھی دیکھ رہی تھی۔

"چل کوئی نہیں یہ نہیں تو کچھ اور سہی ،ڈھونڈ لیں گے ،میں ہوں نہ ۔" سبطین  کو تسلی دیتے وہ دونوں اب چل دیے۔



シェア - تقدیر کے ہاتھوں کھلوناہے آدمی

Writer Naila Tariq Kambohさんをフォローして最新の投稿をチェックしよう!

フォロー

0 件のコメント

この投稿にコメントしよう!

この投稿にはまだコメントがありません。
ぜひあなたの声を聞かせてください。